نئی دہلی،5جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) وزیر قانون روی شنکر پرساد نے اتوار کو کہا کہ حکومت نوجوانوں سے بات کرے گی اور اگر ان پر نظر ثانی شہریت قانون کو لے کر کوئی وہم ہے تو اسے دور کرے گی لیکن ان لوگوں سے بات نہیں کرے گی جو آزادی کے نعرے لگاتے ہیں اور ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا حصہ ہیں۔پرساد نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور احتجاجی مظاہرہ کرنے کی آزادی ہے لیکن قومی سلامتی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے قانون کو لے کر وشو ہندو پریشد کی طرف سے منعقد ایک پروگرام میں کہاکہ ہم تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن وہ آوازیں اور غور ناقابل قبول ہیں جو ملک کو بانٹنے کی باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے نوجوانوں کی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان سے بات کر کے ان کے بھرم دور کرے گی۔پرساد نے کہاکہ ہم نوجوانوں سے بات کریں گے اور اگر قانون کو لے کر کوئی وہم ہے تو اسے دور کریں گے لیکن ان سے بات نہیں کریں گے جو آزادی کی باتیں کر رہے ہیں اورٹکڑے ٹکرے گینگ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بار بار کہا ہے کہ یہ قانون ہندوستانی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتا۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت کانگریس کے لیڈر بھی مختلف مواقع پر ہندوؤں، سکھوں اور پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہندوستان آئے ہراساں دیگر اقلیتوں کو شہریت دینے کی باتیں کر چکے ہیں۔